ماسکو پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ روسی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے موجود ہیں، جہاں ان کی ملاقات روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی متوقع ہے،یہ ملاقات موجودہ عالمی صورتحال، بالخصوص خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر قریبی رابطہ اور مشاورت جاری ہے، اور دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حالات میں ہم آہنگی اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، دونوں ممالک کی پالیسیوں میں ہم آہنگی خطے کے استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے پاکستان کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں نہایت مثبت رہیں، جہاں مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،پاکستانی حکام کے ساتھ ہونے والی مشاورت میں ماضی کے واقعات اور موجودہ حالات کا بھی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر ان حالات کا جن کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ گفتگو میں علاقائی سلامتی، تعاون اور سفارتی روابط کے فروغ پر بھی زور دیا گیا، اور دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے مسلسل رابطہ اور مشاورت ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: امریکہ نے ایران کو 5.5 کلوگرام افزودہ یورینیم کیوں دیا؟ ’ایٹمز فار پیس’ پروگرام کی اصل کہانی
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان بھی آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر قریبی مشاورت جاری ہے، کیونکہ دونوں ممالک اس اہم سمندری گزرگاہ کے ساحلی ممالک ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے محفوظ تجارتی آمد و رفت نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اور عمان اس بات پر متفق ہیں کہ اس اہم خطے میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے ماہرین کی سطح پر بھی مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری رکھی جائے گی تاکہ مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔







