جنوبی کوریا کے شہر گیونگ جو میں منعقدہ اپیک سی ای او سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک بار پھر انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ عسکری تنازعے کے حوالے سے حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ سے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ روک دی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نائسٹس لکنگ گائے ہیں، وہ ایک کلر ہیں، بہت سخت آدمی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی مئی 7 سے 10 تک جاری جنگ آپریشن سندور کو اپنے فون کالز کے ذریعے ختم کرایا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے وزیراعظم مودی کو فون کیا اور کہا کہ ہم تمہارے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتے کیونکہ تم پاکستان سے جنگ کر رہے ہو۔ پھر میں نے پاکستان کو بھی فون کیا اور کہا کہ تم انڈیا سے لڑ رہے ہو تو تمہارے ساتھ بھی کوئی ٹریڈ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں کا کہنا تھا کہ جنگ کا تجارت سے کوئی تعلق نہیں، لیکن میں نے کہا کہ اس کا بہت تعلق ہے کیونکہ تم دونوں ایٹمی طاقتیں ہو، اگر لڑو گے تو ایٹمی گردوغبار پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے دونوں ممالک کو کہا کہ اگر جنگ نہ رکی تو تم دونوں پر 250 فیصد ٹیکس لگا دوں گا اور اس کے بعد صرف 48 گھنٹوں میں جنگ رک گئی۔

انہوں نے کہا کہ دو دن بعد دونوں ممالک کے رہنماؤں نے فون کیا اور کہا کہ ہم سمجھ گئے ہیں اور لڑائی بند کر دی۔ کیا بائیڈن ایسا کر سکتے تھے؟ میں نے لاکھوں زندگیاں بچائیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ٹوکیو میں بزنس لیڈرز سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس جنگ میں سات نئے طیارے مار گرائے گئے، یہ دونوں بڑی ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے پر حملے کر رہی تھیں، لیکن میں نے صرف ایک دن میں معاملہ ختم کرا دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے مودی سے کہا، تم ایک اچھے انسان ہو اور پاکستان کے فیلڈ مارشل بھی زبردست فائٹر ہیں، لیکن اگر تم لوگ لڑتے رہے تو ہم تمہارے ساتھ تجارت نہیں کریں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر جنگ جاری رہی تو تمہیں نیوکلئیر ڈسٹ سے سب متاثر ہوں گے اور 24 گھنٹوں کے اندر جنگ رک گئی۔ یہ واقعی حیران کن تھا۔

یاد رہے کہ سات مئی سے 10 مئی کے دوران انڈیا نے آپریشن سندور کے نام سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں دہشت گردی کے مبینہ ٹھکانوں پر حملے کیے تھے، جو 22 اپریل کے پہلگام حملے کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔ انڈین میڈیا کے مطابق 10 مئی کو دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز (DGMO’s) کے درمیان رابطے کے بعد فائر بندی پر اتفاق ہوا، جب کہ ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ جنگ ان کی مداخلت سے رکی تھی اور انہوں نے واشنگٹن کے ذریعے طویل رات کی بات چیت کے بعد دونوں فریقوں کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔