امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی و وسطی ایشیا کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے پال کپور کا کہنا تھا کہ امریکا اور پاکستان اہم معدنی وسائل کی ترقی کے شعبے میں مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی حکومتی سطح پر ابتدائی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی مہارت دونوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ توانائی اور زرعی شعبوں میں دوطرفہ تجارت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کے میدان میں تعاون بھی جاری ہے، یہ اشتراک پاکستان کو داخلی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے اور امریکا و اس کے اتحادیوں کو درپیش سرحد پار خطرات کی روک تھام میں بھی معاون ہے۔

سماعت کے دوران ارکانِ کانگریس نے شدت پسندی، پاکستان کی سابقہ سیکیورٹی پالیسیوں اور خطے کی مجموعی صورتحال پر سوالات اٹھائے۔ ایک سوال کے جواب میں پال کپور نے کہا کہ انہیں جنوبی و وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے منظم شدت پسند گروہوں کی امریکا میں موجودگی کے شواہد نہیں ملے، تاہم انفرادی عناصر کسی بھی معاشرے میں موجود ہوسکتے ہیں۔

اجلاس میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور بھارت کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔ امریکی ان  کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط اور خودمختار بھارت امریکا کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ خطے میں چین کے اثر کو متوازن کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا کوئی بھی فیصلہ افغان خواتین کے حقوق میں بہتری سے مشروط ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا قطر میں قائم ایک کیمپ کی بندش کے تناظر میں افغان شہریوں کو رضاکارانہ واپسی کے لیے مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی افغان شہری کو زبردستی واپس نہیں بھیجا جا رہا، جبکہ تقریباً 150 افراد مالی پیشکش قبول کرچکے ہیں، تاہم ان کی واپسی کے بعد کی صورتحال سے متعلق معلومات دستیاب نہیں۔