سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیرِاعظم پاكستان شہباز شریف اور عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی روکنے کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے كہا كہ اگر ایران اس شرط کو قبول کر لیتا ہے تو یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔

انہوں نے كہا ہے كہ دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم دو ہفتوں کا وقفہ حتمی معاہدے کو مکمل کرنے میں مدد دے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہ صرف امریکا بلکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنے کو اعزاز سمجھتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت خطے میں پائیدار امن کا باعث بنے گی۔

خیال رہے كہ اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظمِ پاكستان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پُرامن حل کے لیے سفارتی اقدامات تسلسل کے ساتھ مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور جلد مثبت نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتکاری کو اپنا عمل مکمل کرنے کا موقع دینے کے لیے میں مخلصانہ طور پر صدر ٹرمپ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دی گئی مہلت میں دو ہفتوں کی توسیع کریں۔

وزیراعظم پاكستان نے ایران سے بھی اپیل کی کہ وہ خیرسگالی کے جذبے کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھول دے، تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کریں تاکہ سفارتی عمل کو مکمل ہونے کا موقع ملے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔