ایک تقریبِ فراغت سے خطاب میں پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو افغانستان آتے ہیں اور پھر واپس جا کر پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ آپ نے انہیں داخل ہونے سے کیوں نہیں روکا؟

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ تم نے ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگائی، کیمرے نصب کیے، بڑی بڑی چوکیاں اور بیس بنائے، پشاور سے اسلام آباد تک چیک پوسٹیں قائم کیں، لاکھوں فوجی اور ایجنٹ تعینات کیے، پھر بھی تم ٹی ٹی پی کو نہیں روک سکے، تو میں کیسے روک سکتا ہوں؟

افغان وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 20 سے 25 برس سے انہی مسائل کا شکار ہے اور ٹی ٹی پی کوئی نئی تنظیم نہیں بلکہ وہ برسوں سے پاکستان میں سرگرم رہی ہے۔ پاکستان خود کہتا ہے کہ 20 سالوں میں اس کے 70 سے 80 ہزار شہری مارے گئے، ڈرون حملے ہوئے، حتیٰ کہ ان کے صدر پرویز مشرف پر بھی حملہ ہوا تو کیا اس سب کے پیچھے بھی افغانستان تھا؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہشات غیر معقول تھیں، انہوں نے مذاکرات کے دوران مطالبہ کیا کہ افغانستان پاکستان کی سلامتی کی ضمانت دے۔ کیا ہم پاکستان کی سلامتی کے ذمہ دار ہیں؟ ہم نے کہا کہ اپنی فضائی حدود میں ڈرون مت آنے دو، داعش کے جنگجوؤں کو افغانستان میں داخل ہونے سے روکو، مگر انہوں نے یہ ذمہ داری قبول نہ کی۔

مزید پڑھیں: استنبول مذاکرات کی ناکامی کے بعد ترکی کا ثالثی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان، وفد کا بنیادی مقصد کیا ہوگا؟

امیر خان متقی نے انکشاف کیا کہ پاکستانی وفد نے مذاکرات کے دوران بعض اوقات یہ تک تجویز دی کہ ٹی ٹی پی کے گروہوں کو افغانستان منتقل کر دیا جائے، جسے افغان قیادت نے سختی سے رد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ باہمی احترام اور متوازن تعلقات کی خواہش ظاہر کی ہے، مگر جب پاکستان اپنی سرزمین سے اٹھنے والے خطرات کو نہیں روکتا تو الزام افغانستان پر کیوں لگاتا ہے؟

پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے امیر متقی نے کہا کہ ہم پاکستان کے عوام، علما اور سیاستدانوں کا احترام کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہاں بہت سے خیرخواہ اور امن پسند لوگ موجود ہیں، جنہیں ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ وہ (پاکستان) خود کو ایٹمی طاقت کہتا ہے، مگر اپنی فوجی طاقت مہاجرین، مسافروں، تاجروں اور سبزی فروشوں کو روکنے میں استعمال کرتا ہے۔