بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے واقف دو پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو عالمی سطح پر پاکستان کا سفارتی کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ثالثی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کئی ماہ سے لیبیا میں سیاسی حل کے لیے سرگرم ہے۔ لیبیا سنہ 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد خانہ جنگی کا شکار ہوا اور تب سے ملک مشرقی اور مغربی انتظامیہ میں تقسیم ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس سال امریکا اور ایران کے درمیان بھی اہم سفارتی کردار ادا کیا، جسے امریکی انتظامیہ کی جانب سے سراہا گیا۔ ایک پاکستانی ذریعے کا کہنا ہے کہ لیبیا سے متعلق پاکستانی کوششوں سے امریکا مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس عمل میں شریک بھی ہے، جب کہ سعودی عرب بھی اس سفارتی کاوش کی حمایت کر رہا ہے۔
EXCLUSIVE: Pakistan mediating Libya unity push as rival camps seek deal, Pakistani sources say https://t.co/EJNoa3wp03 https://t.co/EJNoa3wp03
— Reuters (@Reuters) July 6, 2026
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی کی کوششیں گزشتہ برس کے آخر میں شروع ہوئیں، جب لیبیا کے دونوں مخالف فریقوں نے اسلام آباد سے رابطہ کر کے ثالثی میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ پاکستان اس عمل میں دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ کس حد تک رابطے میں ہے۔
خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ فلحال اس حوالے سے پاکستان کی وزارت خارجہ، فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ، لیبیا کے مشرقی و مغربی حکام، قطر، ترکی، سعودی عرب اور امریکا کے متعلقہ حکام نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق رائٹرز کو موصول ہونے والے ایک مجوزہ لیبیا ری یونیفیکیشن پلان کے تحت 36 ماہ پر مشتمل عبوری قومی اتحاد کی حکومت قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
منصوبے کے مطابق اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ مغربی حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ عبوری وزیر اعظم رہیں گے، جب کہ مشرقی لیبیا کی فوج کے نائب کمانڈر صدام حفتر صدارتی کونسل کی سربراہی کریں گے۔
تجویز میں یہ بھی شامل ہے کہ مشرقی لیبیا کے کمانڈر انچیف خلیفہ حفتر کو بجٹ سے متعلق اختیارات حاصل ہوں گے، کیونکہ ان کے زیر اثر علاقے ملک کے اہم تیل کے ذخائر اور بنیادی تنصیبات پر مشتمل ہیں۔
ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق اس مجوزہ انتظام پر ابھی مزید مشاورت جاری ہے اور پاکستان اس بات کو یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کرے گا کہ کسی بھی متفقہ نظام پر مؤثر عمل درآمد ہو۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی میں صدام حفتر سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات ان کے دورۂ واشنگٹن کے چند روز بعد ہوئی، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کی تھی۔
Pakistan Mediating Libya Unity with US-led Pushhttps://t.co/SjYgNJY428
— Asharq Al-Awsat English (@aawsat_eng) July 7, 2026
اس موقع پر امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا لیبیا کے اتحاد کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور ملک کی تقسیم کے خاتمے کے لیے اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ لیبیا میں امریکا، ترکی، متحدہ عرب امارات اور مصر طویل عرصے سے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، تاہم پاکستان کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے تعلقات دونوں مخالف دھڑوں کے ساتھ برقرار ہیں۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان نے مشرقی لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ دفاعی تعاون بھی بڑھایا ہے، جس میں جے ایف-17 تھنڈر اور سپر مشاق طیاروں کی ممکنہ فروخت پر بھی بات چیت شامل رہی، تاہم اس حوالے سے اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی بھی موجود ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مغربی حکومت نے بھی حالیہ عرصے میں پاکستان کے ساتھ براہ راست رابطوں کی کوشش کی، جب کہ قطر اور ترکی نے بھی پاکستان کو ثالثی کے کردار کے لیے حوصلہ افزائی کی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا میں کسی بھی سیاسی معاہدے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ مختلف دھڑوں کے مفادات، اقتدار کی تقسیم، انتخابی قوانین اور تیل کی آمدنی جیسے دیرینہ تنازعات کو کس حد تک حل کیا جا سکتا ہے۔
جغرافیائی سیاسی امور کے ماہر طارق میگیریسی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے پائیدار ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ ماضی میں بھی کئی امن معاہدے مختصر عرصے بعد ناکام ہو چکے ہیں۔






