واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے اور ایران کسی حد تک معاہدے کی طرف بڑھنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم زمینی حالات اب بھی حساس ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایران اور امریکا کے درمیان بحیرہ ہرمز کے قریب کشیدگی اور فائرنگ کے تبادلے کے واقعات سامنے آئے، ایرانی کارروائیوں کے باوجود عارضی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور تہران معاہدے کی طرف زیادہ آمادہ دکھائی دیتا ہے، تاہم کسی بھی پیش رفت کے لیے احتیاط ضروری ہے۔
انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں پاکستان نے اہم سفارتی رابطے اور کردار ادا کیا ہے،پاکستان نے واضح طور پر درخواست کی کہ مذاکرات کے دوران فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے تاکہ امن عمل متاثر نہ ہو۔
امریکی صدر نے کہا: “پاکستان نے ہم سے کہا کہ اس وقت فوجی کارروائی نہ کی جائے، اگر ضرورت پڑی تو بعد میں صورتحال کا جائزہ لیا جائے، لیکن فی الحال مذاکرات کو موقع دیا جائے۔”
امریکی حکام کے مطابق کچھ ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ پہل امریکا کی جانب سے کی گئی۔ اس صورتحال نے خطے میں پہلے سے موجود غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ پیش رفت اس نازک جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئی ہے جو 8 اپریل سے نافذ ہے اور جس نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ایران کے خلاف سابقہ کارروائیوں کو عارضی طور پر روک رکھا تھا۔
مزید پڑھیں: پوپ لیو اور امریکی وزیرخارجہ میں تحائف کا تبادلہ، امن اور تعلقات بہتر بنانے کی کوشش
ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں مختلف مقامات پر حملے کیے جبکہ عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی، جس سے عالمی منڈیوں میں تشویش دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور پاکستان کی جانب سے موصول ہونے والے سفارتی پیغامات پر بھی غور جاری ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور ممکنہ سفارتی حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ تمام فریقین جلد کسی پائیدار اور پرامن معاہدے تک پہنچیں گے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔







