انڈیا کے دورے پر موجود افغان وزیرِ خارجہ نے جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ایسے مسائل زور و زبردستی سے حل نہیں ہوتے۔ ایک بار انگریز سے پوچھیں، پھر سوویت یونین سے پوچھیں، پھر امریکا اور نیٹو سے پوچھیں، تاکہ سمجھ سکیں کہ افغانستان کے ساتھ ایسا کھیل کبھی اچھا نہیں رہا۔

دوسری جانب کابل میں جمعرات کی رات ہونے والے دھماکوں کے بعد سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود مارے گئے ہیں، تاہم اس کی کسی سطح پر باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

افغان طالبان انتظامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان میں کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، سب کچھ ٹھیک ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پہلا زور دار دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات 9 بج کر 50 منٹ پر سنا گیا، جس کے چند منٹ بعد دوسرا دھماکہ بھی ہوا۔

سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ دھماکے میں ٹی ٹی پی کے رہنما مفتی نور ولی محسود ہلاک ہوگئے، تاہم حکومتِ پاکستان کی جانب سے کسی بھی حملے کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔

سوشل میڈیا پر جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایک غیر مصدقہ آڈیو پیغام بھی وائرل ہوا، جس میں مبینہ طور پر مفتی نور ولی محسود یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔ تاہم یہ پیغام ٹی ٹی پی کے آفیشل چینل سے جاری نہیں کیا گیا اور تنظیم کی جانب سے اس کی تصدیق بھی نہیں ہوئی۔

کابل میں اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے کئی علاقوں میں گشت بڑھا دیا، گاڑیوں کی تلاشی لی گئی اور کچھ علاقوں میں موبائل فون سروس بند رہی۔

روئٹرز کے مطابق پہلا دھماکہ عبدالحق اسکوائر کے قریب ہوا جہاں اہم وزارتوں اور انٹیلی جنس دفاتر واقع ہیں، جب کہ دوسرا دھماکہ شہر نو علاقے میں سنا گیا۔

واضح رہے کہ تاحال کابل یا اسلام آباد نے مفتی نور ولی کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مزید یہ کہ یہ افواہیں اس وقت سامنے آئی ہیں، جب پاکستان میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: تحریک لبیک کا لانگ مارچ راوی روڈ پہنچ گیا، سعد رضوی اور انس رضوی کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

بدھ کے روز اورکزئی میں عسکریت پسندوں کے حملے میں دو افسران سمیت 11 فوجی اہلکار شہید ہوئے، جب کہ جعفر ایکسپریس پر بھی ایک اور حملہ ہوا۔

اسلام آباد کے مطابق ان حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ملوث ہیں، جن کے رہنما افغانستان میں موجود ہیں، تاہم افغان طالبان انتظامیہ ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔