ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی قیادت کو معاہدے پر مبارکباد دی اور کہا کہ تینوں ممالک کا یہ اقدام خطے کے ممالک کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، یہ معاہدہ اس بات کا اظہار ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک باہمی تعاون اور اتحاد کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے دفاع کو زیادہ مؤثر اور بامعنی انداز میں مضبوط بنا سکیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کو خطے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی قیادت نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو مستقبل میں دفاعی تعاون کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔
انہوں نے تینوں ممالک کی قیادت کو ایک بار پھر مبارکباد دیتے ہوئے معاہدے کو ’بڑا، جرات مندانہ اور انتہائی اہم پہلا قدم‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان کے آخر میں جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے صرف ’واہ!‘ کے الفاظ تحریر کیے۔
مکہ میں ہونے والا یہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی روابط کو مزید منظم اور مضبوط بنانے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تینوں ممالک پہلے ہی مختلف شعبوں میں قریبی سفارتی، سیاسی اور دفاعی تعلقات رکھتے ہیں، تاہم مشترکہ دفاعی تعاون کے حوالے سے کسی باضابطہ فریم ورک کی تشکیل خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
معاہدے کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی رابطوں، سکیورٹی تعاون اور ممکنہ مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے تناظر میں اس نوعیت کا تعاون سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے باہمی تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کا خیرمقدم اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنے اتحادیوں اور شراکت دار ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کے ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھتا رہا ہے۔
مکہ میں ہونے والے اس معاہدے نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود قریبی تعلقات کو دفاعی شعبے میں مزید آگے بڑھانے کے امکانات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی اسے خطے میں ابھرتے ہوئے نئے دفاعی تعاون کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔







