ایوی ایشن انڈیا پروگرام کے دوران نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے سی ای او کیمبل ولسن نے کہا کہ فضائی حدود پر پابندیاں ہماری پروازوں کی بروقت آمد و رفت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔

یہ پہلا موقع تھا جب کیمبل ولسن نے بوئنگ ڈریم لائنر حادثے کے بعد عوامی سطح پر اظہارِ خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل بہتری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم کاروباری اعتبار سے یہ سال انتہائی چیلنجنگ رہے گا، اور ہم تفتیش کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایئر انڈیا کو حالیہ مہینوں میں جغرافیائی تنازعات کے باعث فضائی راستوں کی پابندیوں کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں پروازوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

خاص طور پر جون میں احمد آباد کے قریب ہونے والے بوئنگ ڈریم لائنر طیارے کے حادثے میں 260 افراد کی ہلاکت کے بعد ایئرلائن کی کارکردگی اور ساکھ پر منفی اثر پڑا ہے۔

خیال رہے کہ ٹاٹا گروپ کی ملکیت میں موجود ایئر انڈیا حادثے کے بعد شدید نگرانی اور دباؤ کی زد میں ہے۔

کمپنی پر کئی سنگین الزامات لگے ہیں، جن میں ہنگامی آلات کی جانچ کے بغیر پروازیں چلانا، انجن کے پرزے وقت پر تبدیل نہ کرنا، جعلی ریکارڈ تیار کرنا اور عملے کی تھکن جیسے مسائل شامل ہیں۔

انڈین فضائی حادثات کی تحقیقاتی ایجنسی کی رواں سال کے اوائل میں جاری کردہ عبوری رپورٹ کے مطابق، طیارے کے فیول انجن سوئچز پرواز کے فوراً بعد تقریباً ایک ہی وقت میں ‘رن’سے ‘کٹ آف’  پوزیشن پر منتقل ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں حادثہ پیش آیا۔

یاد رہے کہ پاکستان پہلے ہی انڈین طیاروں پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر چکا ہے۔

23 اپریل کو انڈیانے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بغیر کسی ثبوت کے الزام عائد کیا تھا کہ اسلام آباد نے اس حملے کی پشت پناہی کی۔ تاہم پاکستان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔

انڈیانے ان الزامات کی بنیاد پر سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، جس کے جواب میں 24 اپریل کو پاکستان نے متعدد اقدامات اٹھائے، جن میں انڈیاکے لیے فضائی حدود، زمینی آمد و رفت اور ہر قسم کی تجارت بند کرنے کا فیصلہ شامل تھا۔

اس واقعے کے بعد سے دونوں ایٹمی طاقت رکھنے والے پڑوسی ممالک نے ایک دوسرے کی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔