سوئیڈن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ نیٹو اجلاس میں فوجی تعیناتی اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات پر بات کریں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں  ٹول سسٹم  نافذ کرنے کا کوئی بھی اقدام سفارتی معاہدے کو ناقابلِ عمل بنا سکتا ہے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے مل رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے حد سے زیادہ پُرامید ہونا درست نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح ہمیشہ ایک اچھی ڈیل، معاہدہ اور سفارت کاری رہی ہے۔ اگر ایک بہتر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ بہترین ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکا اپنے بعض نیٹو اتحادیوں سے ناراض بھی ہے، تاہم واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے۔

مارکو روبیو نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتی ہیں، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ ابھی کسی حتمی پیش رفت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔