پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میرٹ کے مطابق اس نئے نظام کے تحت پاکستانی درخواست گزار برطانیہ کے ویزا کے لیے آن لائن درخواست جمع کرائیں گے اور بایومیٹرک کے لیے ویزا ایپلیکیشن سینٹر جائیں گے، تاہم انہیں پاسپورٹ واپس لینے کے لیے دوبارہ سینٹر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ کامیاب درخواست گزاروں کو ویزا کا ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کیا جائے گا، جو ان کے یوکے ویزا اینڈ امیگریشن اکاؤنٹ کے ذریعے دستیاب ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد امیگریشن اسٹیٹس کو زیادہ محفوظ اور قابلِ رسائی بنانا ہے، جب کہ دستاویزات کے گم یا خراب ہونے کے امکانات کو بھی کم کرنا ہے۔
ہائی کمشنر کے مطابق درخواست دہندگان کو ویزا کی حیثیت ثابت کرنے کے لیے ایک شیئر کوڈ بھی فراہم کیا جائے گا، جسے وہ سرحدی چیک پوائنٹس اور دیگر متعلقہ مقامات پر استعمال کر سکیں گے۔
From today, visitors to the UK will get eVisas AND you get to keep your passport while you wait! Simply create your @UKVIgovuk account, apply as normal, and we ll email it to you. Happy travels! pic.twitter.com/M45hOqr3c8
— Jane Marriott (@JaneMarriottUK) February 25, 2026
جین میرٹ نے اس تبدیلی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے برطانیہ کا سفر اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اس نئے سسٹم سے وقت کی بچت ہوگی اور اس کا استعمال نہایت سادہ اور محفوظ ہوگا۔
یہ نظام گزشتہ سال طلبہ اور ورک ویزا کے درخواست دہندگان کے لیے کامیابی سے متعارف کرایا گیا تھا۔ اب نئے ای ویزا سسٹم کے تحت درخواست گزاروں کو پاسپورٹ وصول کرنے کے لیے دوبارہ ویزا سینٹر جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
برطانوی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ ویزا ایجنٹس کے بجائے درخواست گزار اپنی درخواست براہِ راست سرکاری ویب سائٹ gov.uk پر جمع کروائیں۔ اس نئے ای ویزا سسٹم کے نفاذ سے برطانیہ کا سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا کے حصول کا عمل مزید سہل اور تیز رفتار ہو جائے گا۔






