یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جسے ایرانی خبر رساں ادارے تسنم نیوز ایجنسی نے بھی نشر کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ٹارگٹڈ اور اچانک حملوں کے تحت خیبر میزائلوں کے ذریعے کی گئی اور اسے ایران کی جوابی کارروائیوں کی دسویں لہر قرار دیا گیا۔
تسنیم کے مطابق ان حملوں کا ہدف صیہونی حکومت کا حکومتی کیمپس تھا اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ بعض ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کی حالت یا مقام کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے، تاہم اس کی کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
خیال رہے کہ تاحال اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید جاری نہیں کی گئی۔ اسرائیلی حکام عموماً اس نوعیت کے حملوں کے بعد اسٹریٹیجک یا سرکاری مقامات کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق معلومات پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد ایران اب تک میزائل اور ڈرون حملوں کی دس لہریں کر چکا ہے۔ تہران ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت دفاعِ مشروع قرار دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں تعینات 650 پاکستانی شہری محفوظ مقامات پر منتقل کردیے ہیں، سفیر مدثر ٹیپو
خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں میزائلوں کے تبادلے، ڈرون آپریشنز اور عسکری تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق صورتحال نہایت حساس ہے اور کسی بھی بڑے تصدیق شدہ واقعے سے علاقائی تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔







