انڈین میڈیا کے مطابق، نئی دہلی میں چانکیا ڈیفنس ڈائیلاگ کے موقع پر جنرل دویدی نے کہا کہ آپریشن سندور 1.0 صرف ٹریلر تھا، اب فلم شروع ہوگی اور پھر سب دیکھیں گے۔ ہمارا ٹریلر ہی 88 گھنٹے کا تھا۔
جنرل دویدی نے کہا کہ مستقبل کے لیے انڈین فوج مکمل طور پر تیار ہے اور اگر کچھ ہوا تو سبق سکھائیں گے اور اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیں گے۔
جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو طویل المدتی جنگ کے لیے خوراک اور گولہ بارود کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا، چاہے ضرورت پڑنے پر چار سال بھی ہوں۔
#WATCH | Speaking on LAC, India-China relations and diplomacy, Chief of Army Staff, General Upendra Dwivedi says," There has been a lot of improvement in our (India and China) relations since last October, following dialogue between leaders of the two nations to bring… pic.twitter.com/s15J3jHE2f
— ANI (@ANI) November 17, 2025
آج بھی ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ لڑائی کب تک چلے گی۔ اس بار ہم 88 گھنٹے لڑے۔ اگلی بار اس میں چار ماہ یا چار سال بھی لگ سکتے ہیں۔
جنرل دویدی نے کہا کہ اس کو دیکھتے ہوئے، کیا ہمارے پاس اس سے لڑنے کے لیے مناسب رسد اور ہتھیار ہیں؟ اگر نہیں، تو ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال مئی میں انڈین نے پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی کوشش کی تھی، جس میں پاکستانی فضائی اور زمینی افواج نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا۔
عالمی میڈیا اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس کارروائی کی تعریف کی، جہاں پاکستان نے انڈیاکے متعدد جہاز مار گرائے جب کہ اپنے کسی جہاز کو نقصان نہیں پہنچنے دیا۔
پاکستانی شاہینوں نے انڈیا کے زیر استعمال رافیل طیاروں کو بھی نشانہ بنایا اور بھرپور جوابی کارروائی میں فوجی ہیڈ کوارٹر، توپ خانے اور چوکیوں کو تباہ کیا۔







