ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی کے مطابق سکیورٹی اداروں نے بارہا آیت اللہ خامنہ ای کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی دوسرے شہر منتقل ہو جائیں یا زیرِ زمین بنکر میں چلے جائیں کیونکہ خطرات بڑھ چکے تھے۔ تاہم انہوں نے ہر بار یہی جواب دیا کہ ’’پہلے ایرانی عوام کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کریں، پھر مجھے لے جائیں۔‘‘

انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ سکیورٹی حکام نے حالات کی سنگینی کے پیش نظر فوری نقل مکانی پر زور دیا تھا، لیکن آیت اللہ خامنہ ای اپنی رہائش گاہ اور دفتر ہی میں موجود رہے۔ ڈاکٹر عبدالماجد کے مطابق میزائل حملے کے وقت بھی وہ اپنے گھر کے دفتر میں تھے۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں تیل کی صنعت پر کیا اثر پڑے گا؟

نمائندے کے مطابق حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ، بہو اور پوتا بھی شہید ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر نے آخری وقت تک قوم کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا اور اپنی جان کو عوام کے تحفظ پر ترجیح نہیں دی۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد ایران میں سوگ کی فضا ہے اور ملک بھر میں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔