ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ممکنہ امریکی یا اسرائیلی جارحیت کی صورت میں ایران کے زیر غور اقدامات میں یورینیئم کی 90 فیصد تک افزودگی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ایرانی پارلیمنٹ میں مشاورت اور جائزہ لیا جائے گا تاکہ ملکی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے 90 فیصد افزودگی کا عندیہ انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اتنی بلند سطح کی افزودگی کو عالمی سطح پر حساس مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام پر خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں جبکہ تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کیے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مطالبات اور قومی مؤقف کو نظر انداز کرنے کی صورت میں مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں گے۔
مزید پڑھیں: ایران نے سی آئی اے اور موساد کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی
باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر معاملے کو مزید طول دیا گیا تو اس کے سیاسی اور معاشی اثرات امریکا کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ امریکی ٹیکس دہندگان پر اس کی اضافی قیمت پڑے گی۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان سخت بیانات اور امریکا کے ممکنہ کردار کے باعث عالمی برادری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو خطے میں نئی سفارتی اور سکیورٹی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔







