ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں امریکا اور ویٹیکن کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر مارکو روبیو نے پوپ لیو کو کرسٹل سے تیار کردہ ایک خوبصورت فٹبال تحفے میں پیش کیا، جبکہ پوپ نے امریکی وزیر خارجہ کو زیتون کے درخت کی لکڑی سے تیار کردہ خصوصی قلم دیا اور اسے ’’امن اور امید کی علامت‘‘ قرار دیا۔

سفارتی حلقوں کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ کے بعض بیانات اور پالیسی مؤقف پر تنقید سامنے آتی رہی ہے، تاہم حالیہ ملاقات کو دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ملاقات کے دوران ایک دلچسپ لمحہ بھی دیکھنے میں آیا جب مارکو روبیو نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ انہیں معلوم ہے پوپ لیو کا تعلق شکاگو سے ہے اور وہ کھیلوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، اسی لیے انہوں نے خصوصی طور پر فٹبال کا تحفہ منتخب کیا۔ اس پر ملاقات میں موجود شرکا نے مسکراتے ہوئے خیرمقدم کیا۔

ویٹیکن کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو اس وقت جنگوں، سیاسی کشیدگی اور انسانی بحرانوں کے بجائے امن، مکالمے اور مشترکہ تعاون کی ضرورت ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری کو اختلافات کم کرکے انسانی فلاح کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

مزید پڑھیں: آبنائےہرمز عالمی گزرگاہ ہے، اسے کوئی بھی ملک کنٹرول نہیں کرسکتا، ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے: امریکی وزیرخارجہ

ملاقات کے اختتام پر پوپ لیو نے ویٹیکن کے عملے اور سفارتی حکام سے بھی ملاقات کی اور تقریب میں تاخیر کے باوجود انتظامات بہتر رکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ویٹیکن حکام نے اس ملاقات کو امریکا اور ویٹیکن کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور مضبوط ہوتے سفارتی روابط کی اہم علامت قرار دیا۔

واضح رہے  کہ ملاقات کے دوران عالمی تنازعات، مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ دنیا میں مذہبی ہم آہنگی، امن اور سفارتی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر کیوبا سمیت مختلف عالمی امور پر ویٹیکن کی رائے جاننے میں دلچسپی ظاہر کی۔