عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز اسکوائر میں اپنے ہفتہ وار اینجلس خطاب کے دوران پوپ لیو نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف اندھا دھند تشدد، نہتے شہریوں پر حملے اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں ناقابلِ قبول ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ سوڈان میں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فیصلہ کن اور فراخدلانہ اقدامات کرے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق اکتوبر کے آخر میں سوڈان کے دارفور علاقے کے شہر الفاشر میں پیراملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی کارروائی کے دوران سینکڑوں شہری اور غیر مسلح جنگجو ہلاک ہوئے، جب انہوں نے سوڈانی فوج کا آخری بڑا ٹھکانہ اپنے قبضے میں لیا۔
رپورٹ کے مطابق شہر 18 ماہ کے محاصرے کے بعد ایک ہفتہ قبل آر ایس ایف کے کنٹرول میں آیا جس کے بعد دس ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔
مزید پڑھیں: ’مسیحیوں کے قتل عام کا الزام‘، ٹرمپ کا نائیجیریا میں فوجی کارروائی کے لیے تیاری کا حکم
پوپ لیو نے اپنے خطاب میں تنزانیہ کی صورتحال کا بھی ذکر کیا، جہاں حال ہی میں ہونے والے قومی انتخابات کے بعد جھڑپوں میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تشدد سے گریز کریں اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔







