غیر ملکی جریدے دی گارڈین کے مطابق شکاگو میں پیدا ہونے مئی میں منتخب ہونے والے پوپ لیو منگل کو ترکی پہنچے، ایک ایسا ملک جہاں 36 ہزار کے قریب کیتھولک آباد ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

انقرہ آمد پر پوپ لیو کی ملاقات پہلے صدر رجب طیب اردوان سے ہوگی، جس کے بعد وہ آرتھوڈوکس مسیحیوں کے روحانی پیشوا پاتریارک بارثولومیو سے ملاقات اور نقیہ (موجودہ ازنک) میں ہونے والی 1700 سالہ تاریخی مذہبی کونسل کی تقریبات میں شریک ہوں گے۔

لبنان میں پوپ لیو کی آمد کا بے چینی سے انتظار ہے، خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب بیروت میں اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے اعلیٰ کمانڈر سمیت پانچ افراد کی ہلاکت نے خطے میں تناؤ بڑھا دیا ہے۔

سابق پوپ فرانسس نے بھی ان ممالک کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھا تھا مگر صحت کے مسائل کے سبب نہ کر سکے۔

پوپ لیو کو اپنے سادہ، معتدل اور کم ٹکراؤ والے انداز کے باعث پوپ فرانسس سے مختلف سمجھا جاتا ہے اور ان کے پہلے دورے کے لیے ترکی اور لبنان کا انتخاب ویٹیکن کے مطابق انتہائی حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔

ویٹیکن امور کے ماہر کرسٹوفر وائٹ کے مطابق پوپ لیو اس دورے میں اپنے پاپائی مشن کی مرکزی تھیم “امن” پر فوکس کریں گے۔

پوپ لیو استنبول کی بلیو مسجد جائیں گے اور شہر کے ووکس ویگن ارینا میں کیتھولک ماس کی قیادت کریں گے۔ لبنان میں وہ بیروت کی بندرگاہ میں دعائیہ تقریب میں شرکت کریں گے، وہ مقام جہاں 2020 کے دھماکے نے شہر کا بڑا حصہ تباہ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ کیتھولک چرچ کے زیرِ انتظام ایک نفسیاتی اسپتال بھی جائیں گے۔

بیروت کی سینٹ جوزف یونیورسٹی کے پروفیسر کریم عمیل بیتار کا کہنا ہے کہ اس وقت لبنان شدید سیاسی تقسیم اور تباہ کن معاشی بحران کا شکار ہے، اور پوپ کا دورہ “امید کی کرن” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق ویٹیکن ہمیشہ سے لبنان کی وحدت اور سالمیت کا محافظ رہا ہے۔ پوپ کے پاس کوئی سیاسی مفاد نہیں، اس لیے ان کا امن کا پیغام زیادہ اثر رکھتا ہے۔

دمشق کے تاریخی عیسائی علاقے باب توما میں واقع مارونی چرچ کے فاہد دہتہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پورے خطے میں لبنان، فلسطین، شام، ہر جگہ امن چاہیے، پوپ امن کی علامت ہیں۔

اگرچہ پوپ فرانسس نے 2021 میں عراق کے خطرناک علاقوں کا دورہ کیا تھا، مگر پوپ لیو کے لیے جنوبی لبنان جانا فی الحال ممکن نہیں۔ ویٹیکن کے نمائندوں کے مطابق صورتحال انتہائی غیر محفوظ ہے۔