تفصیلات کے مطابق یہ احتجاج بظاہر تاجروں اور دکانداروں کی جانب سے ایرانی کرنسی کی غیر معمولی گراوٹ کے خلاف شروع کیا گیا تھا، جس کے باعث افراطِ زر اور مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا۔ تاہم بعد ازاں یہ احتجاج حکومت کے خاتمے کی تحریک میں تبدیل ہو گیا، جسے قابو میں لانے کے لیے حکومت نے سخت کریک ڈاؤن کیا۔

ایرانی سرکاری حکام نے ان احتجاجات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ احتجاج نہیں بلکہ دہشت گردی تھی، جس کے لیے دانستہ طور پر فساد کا راستہ اپنایا گیا، جب کہ امریکا اس صورتِ حال کو مزید ہوا دیتا رہا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ہزاروں مظاہرین کو براہِ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، کیونکہ وہ ایرانی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ناروے میں قائم ایک انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے ایرانی شہریوں کی تعداد 3428 ہے۔ تاہم اس این جی او کا دعویٰ ہے کہ بعض اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے بیس ہزار تک ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی رہنماؤں کے بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط:  اگر حماس نے ہتھیار نہ چھوڑے تو ان کا خاتمہ ہوگا ،

بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایرانی سیکیورٹی حکام نے متعدد مقامات پر مظاہرین کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا۔