غیر ملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ پانچ ماہ تک جاری رہنے والے تفصیلی جائزے کے بعد اس معاہدے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ منظوری بھی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا فرسٹ ایجنڈے سے ہم آہنگ قرار دی گئی ہے۔
امریکی کانگریس کی سی پاور کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ جو کورٹنی نے کہا کہ 2021 میں طے پانے والا اے یو کے یو ایس معاہدہ تینوں ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود برقرار ہے، جو اس اتحاد کے مضبوط ہونے کی علامت ہے۔
AUKUS کا مقصد کیا ہے؟
AUKUS کا اصل مقصد آسٹریلیا کو جدید جوہری آبدوزوں سے لیس کرنا اور اسے طویل فاصلے تک ہدف بنانے کی صلاحیت دینا ہے، تاکہ بحرالکاہل کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اس معاہدے کی مجموعی لاگت 235 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ معاہدے میں آسٹریلیا کو مستقبل میں اپنی آبدوزیں تیار کرنے کی جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے، جو دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
آسٹریلیا کے وزیرِ صنعتِ دفاع پیٹ کونرائے نے امریکی جائزے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی حکومت معاہدے میں مزید بہتری کے لیے تمام سفارشات پر عمل کرے گی۔ اے یو کے یو ایس ایک طویل المدتی دفاعی شراکت داری ہے جو کئی دہائیوں تک جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا نے 2021 میں فرانس کے ساتھ ڈیزل آبدوزوں کا اربوں ڈالر کا معاہدہ منسوخ کر کے اے یو کے یو ایس پروگرام کو ترجیح دی تھی، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں سخت تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔







