رپورٹ کے مطابق ان ممکنہ کارروائیوں میں خارگ جزیرہ اور خلیج فارس کے قریب ساحلی علاقوں میں چھاپہ مار نوعیت کے محدود آپریشنز شامل ہو سکتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکام کے مطابق کسی بھی زمینی کارروائی کا مقصد وسیع پیمانے پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ اس میں خصوصی دستوں اور عام انفنٹری یونٹس کی محدود کارروائیاں شامل ہوں گی۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی اطلاع دی ہے کہ پینٹاگون ایران میں زمینی افواج کی تعیناتی سمیت مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد زمینی افواج کے بغیر بھی حاصل کر سکتا ہے، تاہم خطے میں کچھ اضافی فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ حکمت عملی میں لچک برقرار رکھی جا سکے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پینٹاگون ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے فوج کے ایلیٹ 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے کم از کم ایک ہزار اہلکاروں کو تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو پہلے سے موجود تقریباً 50 ہزار امریکی فوجیوں کے علاوہ ہوں گے۔
میرینز اور دیگر زمینی دستوں کی ممکنہ تعیناتی سے متعلق اطلاعات کے بعد یہ قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے یا ایران کی تیل برآمدات کے لیے اہم خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے محدود زمینی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی افواج تکنیکی طور پر ایسے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم اس کے نتیجے میں جانی نقصان اور بھاری مالی اخراجات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جو بالآخر امریکی عوام پر بوجھ بن سکتے ہیں۔







