خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پولینڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اگر ان کا طیارہ پولینڈ کی حدود میں داخل ہوا تو عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پولش وزیر خارجہ رادوسواف سکورسکی نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ اگر پیوٹن کا جہاز پولینڈ کی فضائی حدود میں داخل ہوتا ہے تو حکومت اس طیارے کو روکنے اور عالمی عدالت کے حوالے کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔

عالمی فوجداری عدالت نے پیوٹن کے خلاف یوکرین کے بچوں کو غیر قانونی طور پر روس منتقل کرنے کے الزام میں وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔ روس ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم آئی سی سی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ پیوٹن کو اپنی سرزمین پر داخل ہونے کی صورت میں گرفتار کریں۔

پولش وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ اگر پیوٹن کا جہاز پولینڈ کی فضائی حدود سے گزرا تو عدالت اسے اجازت دے گی۔ ان کے مطابق بہتر یہی ہے کہ روسی پرواز کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے۔

مزید براں یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہنگری میں پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان روس کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی حکومت نے پیوٹن کے داخلے اور واپسی کے لیے مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یوکرین کی فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے روسی وفد کو یورپی یونین کے کسی ملک کی فضائی حدود استعمال کرنا پڑے گی۔ یورپی یونین کے تمام ممالک آئی سی سی کے رکن ہیں لیکن ہنگری عدالت کے دائرہ اختیار سے نکلنے کے عمل میں ہے۔

دوسری جانب بلغاریہ نے کہا ہے کہ اگر ہنگری سمٹ واقعی امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے تو وہ پیوٹن کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کرے گا۔ بلغاریہ کی وزارت خارجہ کے مطابق روس کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔

واضع رہے کہ اگر پیوٹن واقعی ہنگری کا سفر کرتے ہیں تو یہ نہ صرف سفارتی بلکہ قانونی طور پر بھی یورپی ممالک کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔