عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیرس کی پبلک پراسیکیوٹر لور بیکوا نے تصدیق کی کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک مشتبہ شخص بھی شامل ہے، جس کی شناخت جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے ڈی این اے کے ذریعے کی گئی۔ انہوں نے فرانسیسی ریڈیو RTL سے گفتگو میں کہا کہ یہ مشتبہ شخص ہمارے تفتیشی اداروں کے اہم اہداف میں شامل تھا۔ ہم اس پر کافی عرصے سے نظر رکھے ہوئے تھے۔

پراسیکیوٹر کے مطابق بدھ کی رات مختلف علاقوں سے کارروائیاں کرتے ہوئے مشتبہ افراد کو پیرس اور اس کے مضافاتی علاقوں، خصوصاً سین سینٹ ڈینی ریجن سے حراست میں لیا گیا۔

اب تک کل سات افراد اس کیس میں گرفتار ہو چکے ہیں۔

یہ ڈکیتی 19 اکتوبر کی صبح اس وقت پیش آئی جب دنیا کے سب سے زیادہ وزٹ کیے جانے والے میوزیم، لوور میں سیاح موجود تھے۔ اسی دوران کچھ نقاب پوش افراد نے اپولو گیلری کی بالائی کھڑکی سے داخل ہو کر صرف چار منٹ میں آٹھ قیمتی زیورات چرا لیے۔

چوری شدہ اشیاء میں انیسویں صدی کے نایاب تاج، مالا، بالیاں اور فرانسیسی شہنشاہ نیپولین اوّل اور نیپولین سوئم کی بیویوں کے استعمال شدہ بروش شامل ہیں۔ ان قیمتی نوادرات کی مجموعی مالیت تقریباً 8 کروڑ 80 لاکھ یورو (یعنی 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) بتائی جا رہی ہے۔

پراسیکیوٹر بیکوا نے بتایا کہ دو گرفتار ملزمان ایک 34 سالہ الجزائری شہری اور دوسرا 39 سالہ فرانسیسی باشندہ کو پیرس کے علاقے اوبرویلیئر سے ہفتے کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ دونوں نے تنظیمی چوری (جس کی سزا 15 سال تک قید) اور فوجداری سازش (10 سال سزا) کے الزامات جزوی طور پر تسلیم کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: لوور میوزیم سے چوری کے بعد قیمتی زیورات فرانس کے مرکزی بینک منتقل

دوسری جانب لوور میوزیم کی ڈائریکٹر نے فرانسیسی سینیٹ کو بتایا کہ میوزیم کی سیکیورٹی ٹیم چوروں کی آمد کا پتہ بروقت نہیں لگا سکی، جو ایک سنگین ناکامی ہے۔ وہ اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں اور اپنا استعفیٰ ثقافت کے وزیر کو پیش کیا، تاہم وزیر نے استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

میوزیم انتظامیہ کے مطابق اب تک چوری شدہ زیورات بازیاب نہیں کیے جا سکے، جب کہ فرانسیسی پولیس کی تفتیشی ٹیم نے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مفرور ملزمان کی تلاش تیز کر دی ہے۔