قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض اسرائیلی میڈیا اداروں کی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ قطر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسی جھوٹی اطلاعات ایسے عناصر کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں جن کا مقصد قطر کو جاری علاقائی تنازع کا حصہ دکھانا، اس کی غیر جانبدار سفارتی پالیسی کو متنازع بنانا اور خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینا ہے۔

قطری حکام نے واضح کیا کہ دوحہ نے موجودہ بحران کے آغاز سے ہی اپنے مؤقف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ قطر نہ تو کسی ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی کارروائی میں شریک ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسی کسی کارروائی کا حصہ بننے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا آفس کے مطابق قطر خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے اور تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر اپنے فعال سفارتی کردار کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ گمراہ کن اطلاعات اور بے بنیاد الزامات نہ صرف حقائق کو مسخ کرتے ہیں بلکہ خطے میں جاری امن کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف زمینی کارروائی پر غور کر رہی ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ

قطری حکام کا کہنا ہے کہ ملک علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ موجودہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور ایسا جامع، متوازن اور پائیدار حل تلاش کیا جائے جو تمام متعلقہ فریقوں کے تحفظات کو مدنظر رکھے۔

بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قطر آئندہ بھی خطے میں امن و استحکام کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور کسی بھی قسم کی بے بنیاد خبروں یا منفی پروپیگنڈے کو اپنی خارجہ پالیسی پر اثر انداز نہیں ہونے دے گا۔