ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے بی بی سی کو بتایا کہ دسمبر کے آغاز تک رواں سال کم از کم 1500 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے، جب کہ امکان ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال یہ تنظیم 975 افراد کی پھانسی کی تصدیق کر چکی تھی، تاہم درست تعداد ہمیشہ غیر واضح رہتی ہے کیونکہ ایرانی حکام سزائے موت کے سرکاری اعدادوشمار جاری نہیں کرتے۔ تنظیم کے فراہم کردہ تازہ اعداد و شمار دیگر مانیٹرنگ گروپس کی رپورٹس سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔

ایرانی حکومت ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ سزائے موت کا استعمال صرف انتہائی سنگین جرائم تک محدود ہے۔

ایران میں سزائے موت کی تعداد میں اضافہ 2022 کے بعد واضح طور پر دیکھا گیا، جب 22 سالہ مہسا امینی کی زیرِ حراست موت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ مہسا امینی کو تہران میں اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر غلط طریقے سے حجاب پہننے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ یہ احتجاجی تحریک ایران کی مذہبی قیادت کے لیے کئی برسوں میں سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔

اس کے بعد حکام نے پھانسیوں کی رفتار تیز کر دی۔ 2022 میں تقریباً 520 افراد کو سزائے موت دی گئی، جو اگلے سال بڑھ کر 832 ہو گئی۔ اگرچہ کچھ سزائیں مظاہرین یا مبینہ جاسوسوں پر نافذ کی گئیں، مگر سزائے موت پانے والوں میں 99 فیصد وہ افراد تھے جن پر قتل یا منشیات سے متعلق جرائم کا الزام تھا۔

سماجی کارکنوں کے مطابق ایران میں سزائے موت کی شرح اُس وقت بڑھتی ہے جب حکومت کو داخلی سطح پر خطرہ محسوس ہوتا ہے اور اس کا مقصد عوام میں خوف پیدا کر کے اندرونی مخالفت کو دبانا ہوتا ہے۔

یہ رجحان اُس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور خطے میں ایران کے پراکسی گروپس کو ہونے والے بڑے نقصان کے بعد پھانسیوں میں ایک اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔