ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے بی بی سی کو بتایا کہ دسمبر کے آغاز تک رواں سال کم از کم 1500 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے، جب کہ امکان ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال یہ تنظیم 975 افراد کی پھانسی کی تصدیق کر چکی تھی، تاہم درست تعداد ہمیشہ غیر واضح رہتی ہے کیونکہ ایرانی حکام سزائے موت کے سرکاری اعدادوشمار جاری نہیں کرتے۔ تنظیم کے فراہم کردہ تازہ اعداد و شمار دیگر مانیٹرنگ گروپس کی رپورٹس سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
An zartarwa mutum 1,500 hukuncin kisa a Iran a shekarar nan
— BBC News Hausa (@bbchausa) December 28, 2025
Ƙarin bayani - https://t.co/bfkERHYeBK pic.twitter.com/TlIDhzRgCK
ایرانی حکومت ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ سزائے موت کا استعمال صرف انتہائی سنگین جرائم تک محدود ہے۔
ایران میں سزائے موت کی تعداد میں اضافہ 2022 کے بعد واضح طور پر دیکھا گیا، جب 22 سالہ مہسا امینی کی زیرِ حراست موت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ مہسا امینی کو تہران میں اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر غلط طریقے سے حجاب پہننے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ یہ احتجاجی تحریک ایران کی مذہبی قیادت کے لیے کئی برسوں میں سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔
#BREAKING | 🇮🇷 —
— Emeka Gift Official (@EmekaGift100) December 27, 2025
Iran executed at least 1,922 people in 2025, more than doubling the previous year s figure and marking the highest annual total in over a decade (since 2015), according to the latest annual report by Human Rights Activists (HRA/HRANA). pic.twitter.com/gMNrgTrIkI
اس کے بعد حکام نے پھانسیوں کی رفتار تیز کر دی۔ 2022 میں تقریباً 520 افراد کو سزائے موت دی گئی، جو اگلے سال بڑھ کر 832 ہو گئی۔ اگرچہ کچھ سزائیں مظاہرین یا مبینہ جاسوسوں پر نافذ کی گئیں، مگر سزائے موت پانے والوں میں 99 فیصد وہ افراد تھے جن پر قتل یا منشیات سے متعلق جرائم کا الزام تھا۔
سماجی کارکنوں کے مطابق ایران میں سزائے موت کی شرح اُس وقت بڑھتی ہے جب حکومت کو داخلی سطح پر خطرہ محسوس ہوتا ہے اور اس کا مقصد عوام میں خوف پیدا کر کے اندرونی مخالفت کو دبانا ہوتا ہے۔
یہ رجحان اُس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور خطے میں ایران کے پراکسی گروپس کو ہونے والے بڑے نقصان کے بعد پھانسیوں میں ایک اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔






