انہوں نے  یہ بات جرمنی میں ایک اجلاس سے خطاب کے دوران کی، جہاں انہوں نے کہا کہ روس پہلے ہی مغربی ممالک کے خلاف اپنی خفیہ کارروائیاں بڑھا چکا ہے اور ہمیں اس نوعیت کی جنگ کے لیے تیاری کرنا ہوگی جس کا سامنا ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق مارک روٹے نے مغربی خفیہ ایجنسیوں کی ان اطلاعات کی بھی تائید کی جن میں روس کے بڑھتے ہوئے عزائم پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور نیٹو ممالک کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر فوری نظرثانی کرنی چاہیے۔

نیٹو سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022 سے جاری جنگ کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چند روز قبل کہا تھا کہ ان کا یورپ سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن اگر یورپ جنگ چاہے تو روس اس کے لیے تیار ہے۔

اُن کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2022 میں یوکرین پر حملے سے قبل بھی روس کی جانب سے یہی یقین دہانیاں کرائی جا رہی تھیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق روس اس وقت تیز رفتار سے جنگی سازوسامان تیار کر رہا ہے، جب کہ یورپی ممالک کو اسی رفتار تک پہنچنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال نیٹو ممالک کو سائبر حملوں، غلط معلومات کی مہمات اور فوجی اڈوں کے قریب ڈرون سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم کسی نیٹو ملک پر براہِ راست روسی حملہ ان واقعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

مارک روٹے نے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات اور پیداوار میں فوری اضافہ کریں، کیونکہ ان کے بقول مسلح افواج کے پاس وہ تمام ضروری صلاحیتیں ہونی چاہئیں جو ان ممالک کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔