پچھلے کچھ برسوں میں نیٹو رکن ممالک کی فضائی حدود میں پراسرار ڈرونز کا داخل ہونا معمول بن چکا ہے۔ کبھی یہ فوجی مشقوں کے دوران ہوتا ہے، کبھی بغیر کسی وضاحت کے۔ ادھر بحرالکاہل میں چین امریکہ کے علاقائی اتحادیوں پر دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے، بحری بیڑے بھیج کر، فضائی حدود کے قریب پرواز کر کے۔ یہ سب اتفاقات نہیں  یہ ایک حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

دا اکانومسٹ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مغربی اتحاد کی طاقت کو جانچنا اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دراڑیں پیدا کرنا ہے۔ روس اور چین اب پہلے سے کہیں زیادہ خطرات مول لینے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں اور یہ رویہ کسی خلا میں پیدا نہیں ہوا  یہ ایک بدلتی ہوئی عالمی ترتیب کا نتیجہ ہے۔

پیچھے مڑ کر دیکھیں تو سرد جنگ کا دور یاد آتا ہے۔  خطرناک، مگر ایک عجیب سکون بھی رکھتا تھا۔ اس وقت دونوں فریق ایک دوسرے کے اشاروں اور ریڈ لائنز کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ جب کوئی ملک جارحانہ قدم اٹھاتا تو دوسرا فریق فوراً اندازہ لگا لیتا کہ یہ محض دباؤ ڈالنے کی چال ہے یا جنگ کی تیاری اور اسی حساب سے ردعمل دیا جاتا۔ کئی مرتبہ ایٹمی جنگ کے سائے گہرے ہوئے، مگر دونوں جانب موجود واضح قواعد و ضوابط نے صورتحال کو مکمل تباہی تک پہنچنے سے روک لیا۔

آج کی دنیا اس سکون سے محروم ہے۔ کوئی بھی عالمی طاقت اب ان مشترکہ اصولوں کو نہیں مانتی جن کی بنیاد پر ایک دوسرے کے اقدامات کو آسانی سے سمجھا جا سکے۔ یہی خالی پن  یہی غیر یقینی  وہ خطرہ ہے جو کسی بھی بحران کے دوران غلط فہمی یا غیر متوقع ردعمل کے امکانات کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ ایک اشارہ، جو کبھی واضح طور پر سمجھا جاتا تھا، اب کئی مختلف انداز میں پڑھا جا سکتا ہے۔

اور اس غیر یقینی کیفیت میں مغربی اتحاد بھی وہ قوت نہیں رہا جو ایک زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے عام سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر یہ امریکہ کی ذمہ داری کیوں ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کی حفاظت کرے۔ ان کے الفاظ میں دوست بوجھ ہیں اور انہیں حفاظت کے بدلے قیمت ادا کرنی ہوگی۔ ان کا مؤقف صاف ہے اتحادی ممالک اپنی دفاعی ذمہ داریاں خود پوری کریں اور اگر وہ امریکی تحفظ چاہتے ہیں تو اس کی قیمت بھی خود چکائیں۔

اسی دوران ماسکو میں بیٹھے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس غیر یقینی صورتحال کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی حکمت عملی مغربی ممالک کو مستقل بےچینی اور شک میں رکھنے کی رہی ہے، کبھی واضح جواب نہ دینا، کبھی ارادے چھپا رکھنا۔

نیٹو ممالک کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے روس کے مبینہ اقدامات کا اسی انداز میں جواب نہیں دے سکتے۔ سمندر کے اندر مواصلاتی کیبلز کو نقصان پہنچانے یا آتش زنی جیسے واقعات پر شبہ ہونے کے باوجود، مغربی ممالک عالمی قوانین اور اپنی سیاسی اقدار کے باعث ویسا ہی جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے وہی اصول جو مغرب کی پہچان ہیں، بعض اوقات اسی کے ہاتھ باندھ دیتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ مغربی رہنما اب اپنے مخالفین کے خلاف پہلے سے زیادہ سخت زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات سخت بیانات یا طاقت کا واضح اظہار جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں، بلکہ جنگ کو روکنے کے لیے ہوتا ہے الفاظ جہاں ہتھیار خاموش رہیں، وہاں دفاع کی آخری لکیر بن جاتے ہیں۔