شامی ذرائع کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب دمشق کی حکومت کرد فورسز سے کنٹرول واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی افواج 2019 سے قامشلی ایئرپورٹ پر تعینات تھیں، تاہم یہ تعیناتی شام کے مغربی ساحل پر واقع حمیمیم ایئر بیس اور بحیرہ روم میں واقع طرطوس نیول بیس کے مقابلے میں محدود نوعیت کی تھی، جنہیں برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شامی ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے روسی افواج نے قامشلی ایئرپورٹ سے بتدریج انخلا کا آغاز کیا۔ کچھ روسی اہلکاروں اور سامان کو مغربی شام کے صوبہ لاذقیہ میں واقع حمیمیم ایئر بیس منتقل کیا جا رہا ہے، جب کہ بعض اہلکاروں کی واپسی روس متوقع ہے۔
ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران روسی فوجی گاڑیاں اور بھاری اسلحہ قامشلی سے حمیمیم ایئرپورٹ منتقل کیا گیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے شفق نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ انخلا کا باضابطہ آغاز 23 جنوری 2026 کو ہوا۔ ابتدائی مرحلے میں دو روسی الیوشن کارگو طیاروں کے ذریعے بھاری سازوسامان اور لاجسٹک یونٹس منتقل کیے گئے، جس کے بعد تکنیکی گاڑیوں اور اہلکاروں کی منتقلی عمل میں آئی۔ پیر کے روز آخری مرحلے میں نام نہاد ’ایلیٹ ٹیم‘ کو بھی منتقل کر دیا گیا، جسے قامشلی میں تعینات آخری روسی دستہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ انخلا شامی اور امریکی فریقین کے ساتھ رابطے اور ایک منظم منصوبے کے تحت کیا گیا۔ تاہم روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے تاحال اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
روسی اخبار کومرسانت نے گزشتہ ہفتے ایک نامعلوم شامی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ کرد فورسز کے انخلا کے بعد شامی حکومت روسی افواج سے اڈہ خالی کرنے کا کہہ سکتی ہے کیونکہ وہاں روسیوں کے لیے مزید کچھ کرنے کو نہیں بچے گا۔
رائٹرز کے ایک صحافی نے قامشلی ایئرپورٹ پر روسی پرچم لہراتے ہوئے دیکھے، جب کہ رن وے پر روسی نشانات والے دو طیارے بھی موجود تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انخلا کا عمل مکمل نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کی کمزوری سے چین فائدہ اٹھا رہا ہے، صدر ٹرمپ
واضح رہے کہ روس 2015 سے شام میں فوجی موجودگی رکھے ہوئے ہے اور یہ تعیناتی سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کی درخواست پر کی گئی تھی۔ دسمبر 2024 میں الاسد حکومت کے خاتمے اور کرد انتظامیہ کے زیرِ اثر علاقوں میں شامی سرکاری افواج کی پیش قدمی کے بعد حسکہ صوبے اور قامشلی کے اطراف میں کنٹرول دوبارہ دمشق کی جانب منتقل ہونا شروع ہوا۔
نئے صدر احمد الشراع، جو تقریباً 14 ماہ قبل اقتدار میں آئے، روس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ صدر الشراع نے گزشتہ برس روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یقین دہانی کرائی تھی کہ دمشق اور ماسکو کے درمیان ماضی میں طے پانے والے تمام معاہدوں کا احترام کیا جائے گا، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ شام میں روس کے بڑے فوجی اڈے فی الحال محفوظ رہیں گے۔
شامی تجزیہ کاروں کے مطابق قامشلی ایئرپورٹ سے روسی افواج کا انخلا خطے میں طاقت کے توازن اور شامی حکومت کی خود مختاری کی بحالی کی کوششوں کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔







