خارکیف کے گورنر اولیہ سنیہوبوف نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 10 رہائشی گھر اور 4 دکانیں متاثر ہوئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 2 مرد اور 3 خواتین شامل ہیں، جب کہ زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے۔

یوکرینی پراسیکیوٹرز کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے میں اسکندر میزائل قسم کا بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا۔

روس نے اس حملے پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم ماسکو بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔

دوسری جانب یوکرین نے بھی روسی دارالحکومت ماسکو پر ڈرون حملہ کیا، جس میں ایک رہائشی بلند عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

روسی سرکاری میڈیا کے مطابق تین ڈرونز نے ماسکو کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم انہیں فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین نے حالیہ ہفتوں میں روسی تیل تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر حملے تیز کر دیے ہیں، جب کہ ماسکو میں آئندہ آنے والی فتح کے دن کی تقریبات سے قبل سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔