یوکرینی حکام کے مطابق روس نے دنیپروپیٹروسک اور اوڈیسا کے علاقوں پر حملہ کیا، جس میں دو بچوں سمیت 6 افراد مارے گئے۔ یوکرین کے انسانی حقوق کمشنر دمیترو لوبینیٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 11 اور 14 سال تھیں۔
دوسری جانب زاپوریزیا کے علاقے میں روسی حملوں سے تقریباً 58 ہزار گھر بجلی سے محروم ہوگئے۔ گورنر ایوان فیڈوروف کا کہنا تھا کہ بجلی کی بحالی کا کام اس وقت شروع کیا جائے گا جب سیکیورٹی صورتحال اجازت دے گی۔ رات گئے ہونے والے میزائل حملوں سے عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، جب کہ دو افراد زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ زاپوریزیا پر روسی حملے اب تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہورہے ہیں، جن میں درجنوں مکانات تباہ، سہولیات مفلوج اور درجنوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔
یوکرین کے فوجی سربراہ اولیکساندر سیرسکی کے مطابق مشرقی شہر پوکراؤوسک میں روسی افواج کے دباؤ کے باعث خصوصی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں، شہر کے گرد روسی افواج نے چنگل نما محاصرہ قائم کیا ہے۔ دشمن کو پسپا کرنے کے لیے جامع آپریشن جاری ہے۔
مزید یہ کہ یوکرین نے روس کے توانائی ڈھانچے پر جوابی حملے کیے ہیں۔ بحیرہ اسود کے بندرگاہی شہر ٹوآپسے میں یوکرینی ڈرون حملے سے روسی آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی اور بندرگاہ کے کچھ حصے کو نقصان پہنچا۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی آئل کمپنی روزنیفٹ کے ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: یوکرین کا روسی افواج کو ایندھن فراہم کرنے والی پائپ لائن پر حملہ
یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کا حکم دیا تھا، جسے انہوں نے ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیا تھا، مگر یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ دراصل ایک غیر قانونی زمینی قبضہ ہے، جس نے لاکھوں یوکرینیوں کو متاثر کیا ہے۔ اب تک دسیوں ہزار فوجی اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ روس کی شہری آبادی پر حملوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے، کیونکہ موسمِ سرما کے قریب آتے ہی ماسکو نے توانائی کے نظام کو نشانہ بنانے کی مہم تیز کردی ہے، جس سے لاکھوں شہری بجلی سے محروم اور سردی کے رحم و کرم پر ہیں۔







