یوکرینی حکام کے مطابق اتوار کی صبح کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملوں میں شہر کے چھ مختلف اضلاع کو نشانہ بنایا گیا، جہاں رہائشی عمارتوں، دفاتر، صنعتی تنصیبات، ایک ہاسٹل اور متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جب کہ مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔

ریسکیو حکام نے سویاتوشنسکی ضلع میں ایک جلتے ہوئے نجی گھر سے چار افراد کو بحفاظت نکال لیا، جبکہ شیوچینکیفسکی ضلع میں تین منزلہ عمارت میں پھنسے شہریوں کو بھی بچا لیا گیا۔ بعد ازاں ایک شخص کی لاش بھی برآمد ہوئی۔

یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے حملے کو  دارالحکومت پر وحشیانہ دہشت گرد حملہ  قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے روس پر مزید سخت دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

ادھر روسی ڈرون حملوں میں وسطی یوکرین کے دنیپروپیٹروسک علاقے میں بھی ایک شخص ہلاک ہوگیا، جب کہ زاپوریژیا میں ایک مسافر ٹرین پر ڈرون حملے میں ٹرین کا کنڈکٹر جان کی بازی ہار گیا۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات بھر میں 41 میزائل داغے، جن میں سے 18 کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

دوسری جانب یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے بحیرہ اسود میں روس کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جس کا مقصد روس کے زیر قبضہ کریمیا تک ایندھن اور رسد کی فراہمی متاثر کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران پر شدید بمباری، کیا جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی؟

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل مقامی سطح پر تیار کرنے کے لیے لائسنس دینے پر آمادہ ہیں، تاہم اس منصوبے کی تفصیلات اور ٹائم لائن ابھی واضح نہیں کی گئی۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے، جب کہ حالیہ مہینوں میں کیف پر روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔