روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ ماسکو چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کریں اور بات چیت جاری رکھیں تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام پیدا نہ ہو۔
ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ روس اب بھی ایران سے افزودہ یورینیم باہر منتقل کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے، تاہم ماسکو اپنی یہ تجویز کسی پر مسلط نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیشکش کئی ماہ سے موجود ہے، لیکن امریکا نے اب تک اس حوالے سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔
EU s Kaja Kallas:
— Clash Report (@clashreport) May 28, 2026
Too many countries continue to do business with Moscow while simultaneously enjoying privileged access to European markets and investments.
So Europe must use its leverage more effectively when it comes to trade, investment, market access, and partnerships.… pic.twitter.com/s4YQiRVadN
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا ایران کو اپنے پاس انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود ہے، جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔
یہی معاملہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ عالمی طاقتیں خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔







