خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق سرگئی شوئیگو نے پیر کے روز ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سرگئی شوئیگو نے ملک بھر میں جاری مظاہروں کے دوران جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اندرونی معاملات میں بیرونی قوتوں کی مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔ ایسی کوششیں علاقائی استحکام اور سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

روسی سلامتی کونسل کے بیان کے مطابق دونوں فریقین نے رابطے برقرار رکھنے، باہمی مشاورت کو فروغ دینے اور سکیورٹی کے شعبے میں اپنے مؤقف کو ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا۔ شوئیگو نے 2025 میں ایران اور روس کے درمیان طے پانے والے سٹریٹیجک شراکت داری کے معاہدے کی بنیاد پر تعاون کو مزید وسعت دینے کی آمادگی بھی ظاہر کی۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کے خواہاں ہیں۔ ایران نے واضح کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے کھلے رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں حالیہ مظاہرے ابتدا میں معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے تاہم بعد ازاں یہ احتجاج سیاسی نوعیت اختیار کر گئے۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم HRANA کے مطابق مظاہروں کے دوران اب تک 572 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

روس اور ایران کے تعلقات 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے صدور کے درمیان 20 سالہ سٹریٹیجک شراکت داری کا معاہدہ طے پایا، جس کے تحت دفاع اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا گیا ہے۔