الیکسی لیخاچیف کے مطابق روس اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ماضی میں بھی اس نے اسی نوعیت کا کردار ادا کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں ایران کی درخواست پر روس نے یورینیئم اپنے ملک منتقل کیا تھا، اور اب بھی وہ اس معاملے میں تکنیکی اور اعتماد سازی کے حوالے سے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے کا معاملہ بھی ہے۔ روسی مؤقف کو دمتری پیسکوف نے بھی دہرایا، تاہم ان کے مطابق امریکا نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات ختم کرے اور افزودہ یورینیئم امریکا کے حوالے کرے، جسے تہران نے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یورینیئم ان کے لیے قومی خودمختاری کی علامت ہے اور اسے بیرون ملک منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
ایران نے متبادل طور پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی نگرانی میں یورینیئم کو کم درجے پر لانے اور افزودگی پر محدود پابندیوں کی پیشکش کی ہے، تاہم وہ اپنی تنصیبات ختم کرنے یا ذخیرہ بیرون ملک منتقل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔







