روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پیوٹن نے کہا کہ یہ اقدام انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کریملن کی جانب سے جاری بیان میں پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو تعزیتی پیغام بھیجا، جس میں انہوں نے خامنہ ای کے اہل خانہ، ایرانی حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس میں آیت اللہ خامنہ ای کو ایک  غیرمعمولی مدبر  کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے روس اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے اور انہیں جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ماسکو اور تہران گزشتہ برسوں میں قریبی اتحادی رہے ہیں۔ یوکرین جنگ کے دوران ایران نے روس کو ڈرونز اور دیگر عسکری معاونت فراہم کی، جب کہ دونوں ممالک نے طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے بھی کیے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں کو  غیر ذمہ دارانہ قدم  اور  بلا اشتعال مسلح جارحیت  قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت مسلمانوں کےخلاف اعلان جنگ ہے، ایرانی صدر

تجزیہ کاروں کے مطابق خامنہ ای کی ہلاکت روس کے لیے خطے میں ایک اسٹریٹجک دھچکا ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔

پیوٹن نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ روس کشیدگی میں اضافے کا خواہاں نہیں اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔