میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارتِ توانائی کو پیٹرول کی برآمدات پر پابندی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

روس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملکی سطح پر سپلائی کو برقرار رکھنا اور قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔ نوواک نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے نے تیل اور پیٹرولیم کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ روس روزانہ 120,000 سے 170,000 بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے۔

اس فیصلے سے چین، ترکی، برازیل، افریقی ممالک اور سنگاپور کے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے، کیونکہ یہ ممالک روسی پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے خریدار ہیں۔ تاہم انڈیا پر اس کے اثرات کم ہوں گے، کیونکہ وہ ریفائنڈ پیٹرول کے بجائے خام تیل درآمد کرتا ہے۔

نائب وزیر اعظم نوواک نے اجلاس کے دوران بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ تیل کمپنیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کافی ہے اور ریفائنریز پوری یا اس سے بھی زیادہ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں، جس سے موجودہ طلب کو بخوبی پورا کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پیٹرول کی برآمدات پر پابندی اس سے قبل بھی عائد کی جا چکی ہے۔