عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ دوسرا موقع ہے کہ روس نے اوریسنک نامی انٹرمیڈیٹ رینج بیلسٹک میزائل یوکرین پر استعمال کیا۔ یوکرینی حکام نے کہا کہ اسی رات روسی فضائی حملوں میں دارالحکومت کیف میں کم از کم چار افراد ہلاک، درجنوں زخمی، بجلی کی فراہمی متاثر اور قطر کے سفارت خانے کو نقصان پہنچا۔
اوریسنک میزائل کو روس ناقابلِ روک تھام قرار دیتا ہے اور یہ جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم یوکرین کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق اس حملے میں میزائل کے ساتھ غیر فعال (ڈمی) وارہیڈ استعمال کیے گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، اور یورپی ممالک نے یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں اور ممکنہ فوجی تعاون کا عندیہ دیا ہے۔
یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سبیھا نے کہا کہ یورپی یونین اور نیٹو کی سرحد کے قریب اس نوعیت کا حملہ پورے یورپی براعظم کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے روس کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ یہ حملہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ ڈرون حملے کے جواب میں کیا گیا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے میزائل حملے کو واضح اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کو فوری طور پر یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنی چاہیے اور روس پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ روسی دھمکی آمیز اقدامات ناکام ہوں گے اور یورپ یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: احتجاجی مظاہروں میں شدت، ایرانی حکام نے انٹرنیٹ سروس بند کردی
یوکرینی حکام کے مطابق میزائل مغربی شہر لویو میں ایک سرکاری ادارے کی ورکشاپ پر گرا، جس کے نتیجے میں معمولی ساختی نقصان ہوا، جب کہ اطراف کے جنگلات میں گڑھے پڑ گئے۔
اسی دوران روس نے مجموعی طور پر 242 ڈرونز اور 36 میزائل داغے، جن کے نتیجے میں کیف میں پانچ لاکھ سے زائد گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔ شدید سرد موسم اور برفباری کے باعث پانی اور حرارتی نظام بھی متاثر ہوا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
قطر نے تصدیق کی ہے کہ کیف میں اس کے سفارت خانے کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ قطر ماضی میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ روس نے پہلی بار نومبر 2024 میں اوریسنک میزائل استعمال کیا تھا، جس میں بھی مبینہ طور پر غیر فعال وارہیڈ لگائے گئے تھے اور محدود نقصان ہوا تھا۔







