امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں اقوام متحدہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اپنی استعداد کار کے مطابق کام نہیں کر رہا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس ادارے کے وجود کا مقصد کیا ہے جب جنگوں کو ختم کروانے کے لیے کسی اور کو قدم اٹھانا پڑے۔

روس یوکرین جنگ پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ پیوٹن سے تعلقات کی وجہ سے جنگ روکنا آسان ہوگا لیکن اگر روس جنگ بندی پر راضی نہیں ہوتا تو اس پر سخت ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔

انہوں نے چین اور انڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ملک روس سے تیل خرید کر جنگ کو طول دے رہے ہیں اور ساتھ ہی یورپی ممالک روس سے لڑ بھی رہے ہیں اور اس سے توانائی بھی خرید رہے ہیں، اس لیے یورپ کو روس سے توانائی کے تمام منصوبے ختم کرنے چاہییں۔

غزہ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حماس امن معاہدوں کو مسترد کر دیتا ہے۔

انہوں نے حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک یا دو نہیں پورے 20 یرغمالیوں کی فوری رہا کرے اور جو امن چاہتے ہیں وہ یرغمالیوں کی رہائی کی حمایت کریں۔

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنہوں نے فلسطین کو تسلیم کیا ہے انہوں نے حماس کو انعام سے نوازا ہے، مطالبات ماننے کے بجائے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔

ٹرمپ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سات ماہ میں انہوں نے سات نہ ختم ہونے والی جنگیں ختم کرائیں جن میں سے دو جنگیں 31 سال سے جاری تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اُن کی اِن کوششوں پر اقوام متحدہ نے انہیں ایک فون کال تک نہیں کی، جنگیں کھوکھلے بیانات سے نہیں رک سکتیں اور اقوام متحدہ نے ان تنازعات کو حل کرنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

ٹرمپ نے پاکستان انڈیا جنگ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہ انہوں نے یہ جنگ رکوائی نا صرف یہ بلکہ سات جنگیں روکوائی ہیں ،جس پر انہیں نوبل انعام سے نوازا جانا چاہیے ،لیکن انہیں یہ سب انعام کے لیے نہیں چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا کا غزہ کے لیے نیا منصوبہ، مسلم ممالک سے افواج بھیجنے کی درخواست

ان کا کہنا تھا کہ کوئی اور امریکی صدر اس کے قریب قریب بھی کچھ نہیں کر سکا جو انہوں نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں کر دکھایا۔

ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ بی ٹو طیاروں کے ذریعے ایرانی جوہری صلاحیت کو مکمل تباہ کر دیا گیا اور ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا حمایتی ہے اور دنیا کو سب سے بڑا خطرہ وہ تباہ کن ہتھیار ہیں جو انسان کو معلوم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال کے آغاز میں انہوں نے ایران کی ایک اہم جوہری تنصیب پر بمباری کا حکم دیا اور وہ کام مکمل کیا جو لوگ 22 سال سے کرنے کی بات کر رہے تھے۔


اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ انتظامیہ نے امریکا کو معاشی بربادی کا شکار چھوڑا تھا لیکن صرف آٹھ ماہ بعد حالات تبدیل ہو گئے اور اب امریکا دنیا کی مضبوط ترین معیشت اور مضبوط ترین فوج رکھتا ہے۔

ان کے مطابق یہ امریکا کا سنہرا دور ہے، مہنگائی کم ہو چکی ہے، افراط زر کو شکست دی جا چکی ہے، اسٹاک مارکیٹ تاریخی بلندیوں پر ہے اور کارکنوں کی تنخواہیں 60 سال میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن کے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا میں ان کی آمد صفر ہو چکی ہے۔ ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن کو عالمی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف امریکا بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا میں دنیا کے پہلے چھٹی نسل کے لڑاکا طیارے کی پیداوار شروع

خطاب کے دوران ٹرمپ نے لندن کے میئر صادق خان کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ لندن میں ایک خوفناک میئر ہے جو شریعت کا قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا کر نہیں سکتے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ امیگریشن اور مہنگی گرین انرجی پالیسیز آزاد دنیا کو تباہ کر رہی ہیں اور جو ملک دوبارہ عظیم بننا چاہتے ہیں انہیں مضبوط سرحدوں اور روایتی توانائی کے ذرائع کی ضرورت ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھتے ہوں۔

ٹرمپ نے بایولوجیکل ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کی انتظامیہ عالمی سطح پر بایولوجیکل ویپنز کنونشن پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مہم چلائے گی اور ایک ایسا مصنوعی ذہانت پر مبنی تصدیقی نظام بنائے گی جس پر سب اعتماد کر سکیں۔