ایئرپورٹ پر چینی افواج کے دستے نے صدر پیوٹن کو گارڈ آف آنر پیش کیا، جب کہ نوجوانوں نے چینی اور روسی پرچم لہرا کر ان کا استقبال کیا۔
چینی میڈیا کے مطابق صدر پیوٹن اپنے قیام کے دوران دیاؤیوتائی اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہریں گے، جو غیر ملکی رہنماؤں کی میزبانی کے لیے روایتی مقام سمجھا جاتا ہے۔ ان کے سرکاری دورے کا آغاز بدھ کی صبح تیانانمن اسکوائر میں استقبالیہ تقریب سے ہوگا، جس کے بعد وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
چینی میڈیا کے مطابق، صدر پیوٹن کے استقبال کے برعکس امریکی صدر ٹرمپ کا استقبال چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے کیا تھا، جب کہ ٹرمپ امریکی سفارت خانے کے قریب واقع ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں مقیم رہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے دورے کا اختتام ژونگ نان ہائی باغ میں چائے اور ورکنگ لنچ پر ہوا۔ یہ مقام چینی قیادت کا کمپاؤنڈ ہے، جہاں بہت کم سربراہانِ مملکت و حکومت کی میزبانی کی گئی ہے۔
چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان مختلف پروٹوکولز سے دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ چونکہ امریکا اور چین کے تعلقات کشیدہ ہیں، اس لیے ٹرمپ کو ژونگ نان ہائی تک رسائی اور اعلیٰ سطح کا استقبال دینا اعتماد سازی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
More images 🇷🇺🇨🇳
— Brics India (@Brics_india) May 19, 2026
Russia President Vladimir Putin landed in China to meet Chinese President Xi Jinping.
Foreign Minister Wang Yi welcomed him at the Beijing Airport. pic.twitter.com/OcUFUQyD5L
چینی میڈیا کے مطابق، پیوٹن کے لیے وزیر خارجہ کی سطح پر استقبال اور روایتی مقام پر قیام اس گہرے باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو روس اور چین کے درمیان پہلے سے موجود ہے، اور جس کے اظہار کے لیے نمایاں علامتی اقدامات کی ضرورت نہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر پیوٹن اس سے قبل بھی ژونگ نان ہائی کا دورہ کر چکے ہیں، جس کا ذکر صدر شی جن پنگ نے جمعے کو ٹرمپ کو اس کمپاؤنڈ کا دورہ کراتے ہوئے کیا تھا۔
پیوٹن کا یہ دورہ چین اور روس کے درمیان ’ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے‘ کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر بھی ہو رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے چار روز بعد ہونے والا یہ دورہ پیوٹن کا 25واں دورۂ چین ہے۔






