غیر ملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق بین الاقوامی جریدے میں شائع اپنے مضمون میں ظریف نے کہا کہ اگرچہ ایران خود کو اس جنگ میں کامیاب سمجھتا ہے، تاہم تنازع کو طول دینا مزید جانی نقصان اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا باعث بنے گا۔
انہوں نے تجویز دی کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی کے تحت پابندیاں قبول کرے، جس میں یورینیم کی افزودگی کی سطح 3.67 فیصد سے کم رکھنے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عزم شامل ہو۔ اس کے بدلے امریکا تمام پابندیاں ختم کرے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر اتفاق کیا جائے۔
ظریف نے امریکی مطالبے کو جس میں صفر افزودگی کی شرط رکھی گئی ہے غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی عدم جارحیت کا معاہدہ بھی کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایک دوسرے پر حملے نہ کیے جائیں۔
🚨Breaking: Supporters of Iran s government criticize former FM Mohammad Javad Zarif after his Foreign Affairs article proposes a path to end the war. Follow @iranwarpulse for more breaking Iranian war news. #Iran #MiddleEast #Diplomacy pic.twitter.com/RrM8K2pyYc
— Iran War Pulse (@iranwarpulse) April 4, 2026
انہوں نے تجویز دی کہ چین، روس اور امریکا مل کر خطے میں ایک مشترکہ یورینیم افزودگی کنسورشیم قائم کریں، جب کہ خلیجی ممالک، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان اور پاکستان، ترکی اور مصر کو شامل کر کے ایک علاقائی سیکیورٹی فریم ورک بنایا جائے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ ظریف کی تجویز ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملوں کو نظر انداز کرتی ہے۔
سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم نے اس منصوبے کو دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے بھی خبردار کیا کہ جنگ نے خطے کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن دی جا چکی ہے، جب کہ پاکستان، ترکی اور مصر سفارتی سطح پر مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
ماہرین کے مطابق ظریف کا روڈ میپ ایک ممکنہ سفارتی راستہ فراہم کرتا ہے، مگر اس پر عملدرآمد کے لیے تمام فریقین کا اعتماد اور سنجیدہ مذاکرات ناگزیر ہوں گے۔







