غیرملکی میڈیا کے مطابق 69 سالہ احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے۔ اپنے دورِ اقتدار کے آغاز میں وہ حکمران شیعہ علما، قدامت پسند حلقوں اور پارلیمان کے سخت گیر ارکان کے پسندیدہ سمجھے جاتے تھے۔

اپنی دوسری مدت کے اختتام تک ان کی پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے۔ ان کے جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف کے باعث ایران پر متعدد بین الاقوامی پابندیاں عائد ہوئیں، جس کے نتیجے میں ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

احمدی نژاد اسرائیل اور اس کی علاقائی پالیسیوں کے سخت ناقد تھے۔ ان کے دورِ صدارت میں اسرائیل کے خلاف سخت بیانات اور عسکری دھمکیوں کے باعث ایران کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بعض حامی بھی ان سے دور ہو گئے اور ان کی اپنی سیاسی صفوں میں بھی وہ ایک متنازع شخصیت بن گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت مسلمانوں کےخلاف اعلان جنگ ہے، ایرانی صدر

خیال رہے کہ تاحال ایرانی حکام کی جانب سے ان کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔