فرانس کے سابق صدر نکولا سارکوزی کو جمعرات کے روز پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2007 کے صدارتی انتخابی مہم کے لیے لیبیا سے غیر قانونی فنڈز حاصل کرنے کی سازش کی۔ اس فیصلے کے بعد وہ فرانس کی تاریخ کے پہلے سابق صدر بن جائیں گے جو جیل جائیں گے۔
یہ سزا توقع سے کہیں زیادہ سخت تھی۔ سارکوزی 2007 سے 2012 تک صدر رہے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو “شرمناک” قرار دیا اور اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
تاہم جج نے واضح کیا کہ اپیل کے باوجود سزا فوری طور پر نافذ ہوگی اور سارکوزی کو ایک ماہ کے اندر جیل بھیج دیا جائے گا۔ عدالت نے انہیں باقی الزامات، جن میں بدعنوانی اور غیر قانونی فنڈ وصول کرنا شامل تھا، سے بری کر دیا ہے۔
70 سالہ سارکوزی پر الزام تھا کہ انہوں نے 2005 میں اس وقت کے لیبیائی رہنما معمر قذافی سے انتخابی مہم کے لیے رقم لینے کا معاہدہ کیا۔
جج نے کہا کہ اس بات کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ملا کہ پیسہ ان کی انتخابی مہم تک پہنچا، لیکن انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کو لیبیا سے رابطے کرنے اور فنڈ حاصل کرنے کی اجازت دے کر “مجرمانہ سازش” کی۔
یہ دوسرا موقع ہے کہ رواں سال کسی بڑے فرانسیسی سیاسی رہنما کو فوری سزا سنائی گئی۔ مارچ میں دائیں بازو کی رہنما میری لی پین کو یورپی یونین کے فنڈز کے غلط استعمال پر سزا سنائی گئی تھی اور انہیں پانچ سال کے لیے انتخابات لڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
سارکوزی کو اس سے قبل بھی کئی مقدمات کا سامنا رہا ہے۔ گزشتہ سال ان کی بدعنوانی اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کے کیس میں سزا برقرار رکھی گئی اور انہیں ایک سال تک الیکٹرانک ٹیگ پہننے کا حکم دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ ان کی 2012 کی انتخابی مہم کے غیر قانونی فنڈنگ کیس میں بھی اپیل عدالت نے سزا برقرار رکھی تھی، جس کا حتمی فیصلہ اگلے ماہ متوقع ہے۔
فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اقتصادی انصاف کے لیے کام کرنے والے گروپ شیئرپا کے وکیل ونسنٹ برنگارتھ نے کہا: “یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ ہمارے پاس ایک آزاد عدلیہ ہے جو بہادر فیصلے کر سکتی ہے۔”







