عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے خصوصی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ یون سوک یول ان کے 5 سابق وزرائے کابینہ اور 18 دیگر افراد پر بغاوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی گزشتہ سال مارشل لا کے نفاذ سے متعلق 6 ماہ طویل تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
چو اُن سوک کے مطابق ملزمان نے مارشل لا کے نفاذ کا جواز پیدا کرنے کے لیے شمالی کوریا کو مسلح جارحیت پر اکسانے کی کوشش کی، تاہم پیانگ یانگ کی جانب سے فوجی ردعمل نہ آنے کے باعث یہ منصوبہ ناکام رہا۔
واضح رہے کہ یون سوک یول نے دسمبر 2024 میں اچانک مارشل لا نافذ کر کے ملک کو شدید سیاسی بحران میں دھکیل دیا تھا، جس کے بعد عوام اور ارکانِ پارلیمنٹ سڑکوں پر نکل آئے اور پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے ذریعے اس اقدام کو مسترد کر دیا گیا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے مارشل لا کو غیر آئینی قرار دے دیا، جس کے بعد یون سوک یول کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
#LATEST South Korean special prosecutor on investigation into former President Yoon Suk-yeol:
— CGTN (@CGTNOfficial) December 15, 2025
-24 people, including Yoon and five cabinet members, indicted on insurrection charges
-Yoon tried to provoke DPRK to create justification for December 2024 martial law declaration… pic.twitter.com/U73eFBCHDc
خصوصی پراسیکیوٹر کے مطابق یون سوک یول اور ان کے فوجی حامی اکتوبر 2023 سے مارشل لا نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جس کے تحت اہم فوجی عہدوں پر اپنے حمایتی تعینات کیے گئے اور مخالفت کرنے والے وزیر دفاع کو ہٹا دیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سابق صدر اور ان کے قریبی ساتھیوں نے فوجی قیادت کی حمایت حاصل کرنے کے لیے نجی ملاقاتیں اور ڈنر پارٹیوں کا اہتمام کیا۔
پراسیکیوٹر کے مطابق اکتوبر 2024 سے شمالی کوریا کے خلاف فوجی سرگرمیوں کو جان بوجھ کر بڑھایا گیا تاکہ جارحانہ ردعمل کو جواز بنا کر مارشل لا نافذ کیا جا سکے۔ تاہم شمالی کوریا کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہ آیا، جس کی ممکنہ وجہ یوکرین جنگ میں روس کی حمایت میں پیانگ یانگ کی مصروفیت بتائی گئی ہے۔
اس کے باوجود یون سوک یول نے سیاسی مخالفین، لبرل اکثریتی پارلیمنٹ اور حتیٰ کہ اپنی ہی جماعت کے بعض رہنماؤں کو ’’ریاست دشمن عناصر‘‘ قرار دے کر اپنے اقدامات کا دفاع کیا۔
جنوبی کوریا کے قانون کے تحت بغاوت کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں عمر قید یا سزائے موت تک دی جا سکتی ہے۔
یون سوک یول جولائی سے جیل میں ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے مارشل لا عوامی حمایت حاصل کرنے اور اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے مبینہ پارلیمانی استحصال کو روکنے کے لیے نافذ کیا تھا۔







