کانفرنس میں سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان، آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا، مختلف ممالک کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے گورنرز، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ عہدیداران اور ممتاز عالمی ماہرینِ معیشت شرکت کر رہے ہیں۔

دو روزہ اجلاس کا مرکزی عنوان ’’بین الاقوامی تجارتی اور مالیاتی نظام کی ازسرِ نو تشکیل کے دوران پالیسی اقدامات‘‘ رکھا گیا ہے۔ کانفرنس کے دوران عالمی معیشت میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں، جغرافیائی و معاشی عدم استحکام، عالمی تجارتی رجحانات اور مالیاتی نظام میں آنے والی ساختی تبدیلیوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں خاص طور پر ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور ممکنہ مواقع کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں بین الاقوامی تجارت، مالیاتی و مانیٹری پالیسی، سرمایہ کاری کے رجحانات اور میکرو اکنامک استحکام جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

کانفرنس کے شرکا نے بڑھتے ہوئے عالمی اقتصادی دباؤ، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم اور غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں کثیرالجہتی بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ابھرتی معیشتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے عالمی شراکت داری اور مربوط پالیسی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

شرکا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ العلا کانفرنس جیسے فورمز کا بنیادی مقصد اقتصادی پالیسی سازی میں عملی تجربات کا تبادلہ، مؤثر مکالمے کو فروغ دینا اور ایسے قابلِ عمل اور عوام دوست حل تلاش کرنا ہے جو عالمی معیشت میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کر سکیں۔

ماہرین کے مطابق العلا کانفرنس 2026 کے نتائج عالمی اقتصادی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور یہ اجلاس ابھرتی معیشتوں کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔