عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، اقتصادی تعاون اور سکیورٹی شراکت داری کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کے لیے مجوزہ معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس وقت اسے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط نہیں کیا گیا تھا۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

دوسری جانب سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کر چکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

واضح رہے کہ ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے، جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا، تاہم غزہ جنگ اور فلسطین کی صورتحال کے باعث سعودی عرب اب تک ان معاہدوں کا حصہ نہیں بنا۔