سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کی جانب سے ٹیلیفونک کال موصول ہوئی۔ اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے نہ صرف حالیہ علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا بلکہ باہمی دلچسپی کے امور پر بھی کھل کر گفتگو کی۔

ذرائع کے مطابق گفتگو میں خاص طور پر خطے میں جاری تناؤ، سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کو کم کرنا اور کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔

اس موقع پر شہزادہ فیصل بن فرحان اور عباس عراقچی نے اس امر پر زور دیا کہ سفارتی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت اور رابطے ہی وہ راستہ ہیں جن کے ذریعے خطے میں دیرپا امن اور استحکام قائم کیا جا سکتا ہے۔

مزید  پڑھیں: لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر پاکستان اور سعودی عرب کا اظہار تشویش

سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور باہمی رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی غلط فہمی یا کشیدگی کو بروقت کم کیا جا سکے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اس نوعیت کے رابطے خطے میں مثبت پیش رفت کی علامت ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کا کردار مشرق وسطیٰ کی سیاست میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، اگر یہ سفارتی سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔