سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق برقی ہائی اسپیڈ پسنجر ریلوے ریاض کے کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دوحہ کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ملائے گی۔ ٹریک میں الاحساء (الحُفوف) اور دمام بھی شامل ہوں گے۔

حکام کے مطابق ٹرین کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد ہوگی اور دونوں دارالحکومتوں کے درمیان سفر کا دورانیہ صرف دو گھنٹے رہ جائے گا، جب کہ موجودہ ایئر ٹریول 90 منٹ کا ہے۔

منصوبہ چھ سال میں مکمل ہوگا اور سالانہ ایک کروڑ مسافروں کو سہولت فراہم کرے گا، جب کہ دونوں ممالک میں 30 ہزار ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔

معاہدے پر دستخط سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) اور قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے ریاض میں کیے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی مثالی بحالی کی نشانی ہے۔

2017 میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے تعلقات منقطع کر دیے تھے، تاہم جنوری 2021 میں العُلا معاہدے کے ذریعے تعلقات مکمل طور پر بحال کر لیے گئے۔

اس کے بعد دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور انہوں نے خطے میں سفارتی کوششوں میں بھی مشترکہ کردار ادا کیا، خصوصاً غزہ جنگ میں فوری جنگ بندی کی حمایت میں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ستمبر میں قطر میں ہونے والے اسرائیلی حملے کے بعد بھی دوحہ کے موقف کی کھل کر حمایت کی تھی، جس میں فلسطینی رہنما اور قطری سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔