عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے براہِ راست ایرانی سرزمین پر فوجی کارروائی کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت اپنے بڑے علاقائی حریف کے خلاف دفاعی پالیسی میں پہلے سے زیادہ جارحانہ اور خودمختار رویہ اختیار کر رہی ہے۔

سعودی فضائیہ نے یہ کارروائیاں مارچ کے آخر میں کیں۔ ایک مغربی عہدیدار نے بتایا کہ یہ حملے  جوابی کارروائی  تھے، کیونکہ اس سے قبل ایران کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ تاہم حملوں کے مخصوص اہداف کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے براہِ راست حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی، جب کہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ اب خلیجی ریاستوں کو بھی براہِ راست اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران خلیج تعاون کونسل (GCC) کے تمام چھ ممالک پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن میں امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ ایئرپورٹس، تیل تنصیبات اور شہری مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بھی بند کر دی، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔

اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل بھی رپورٹ کر چکا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں۔

مبصرین کے مطابق سعودی اور اماراتی اقدامات اس وسیع تر خفیہ جنگ کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں خلیجی ریاستیں ایرانی حملوں کے جواب میں پہلی بار براہِ راست ردعمل دے رہی ہیں۔

تاہم سعودی عرب اور یو اے ای کے رویوں میں فرق بھی سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے نسبتاً سخت مؤقف اپناتے ہوئے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، جب کہ سعودی عرب نے بیک وقت کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں بھی جاری رکھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ایران کو حملوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیز ہوئے اور مزید جوابی کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد کشیدگی کم کرنے پر غیر رسمی اتفاق رائے قائم ہوا۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ایران پراجیکٹ ڈائریکٹر علی واعظ کے مطابق سعودی جوابی حملوں کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق سمجھتے ہیں کہ بے قابو تصادم پورے خطے کو تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ غیر رسمی مفاہمت اس ہفتے نافذ ہوئی جب واشنگٹن اور تہران نے 7 اپریل کو وسیع تر جنگ بندی پر اتفاق کیا۔

ایک ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی کہ تہران اور ریاض کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوا، جس کا مقصد دشمنی کا خاتمہ، باہمی مفادات کا تحفظ اور خطے میں مزید تناؤ کو روکنا تھا۔

یاد رہے کہ ایران اور سعودی عرب، جو مشرقِ وسطیٰ میں بالترتیب شیعہ اور سنی دنیا کی بڑی طاقتیں سمجھی جاتی ہیں، کئی دہائیوں سے مختلف علاقائی تنازعات میں مخالف گروہوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تاہم 2023 میں چین کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بحال ہوئے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران سعودی عرب نے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی برآمدات جاری رکھیں، جس کے باعث وہ دیگر خلیجی ریاستوں کے مقابلے میں نسبتاً کم متاثر ہوا۔

سابق سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے ایک مضمون میں لکھا کہ جب ایران اور دیگر عناصر نے سعودی عرب کو تباہی کی بھٹی میں دھکیلنے کی کوشش کی تو ہماری قیادت نے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تحمل کا راستہ اختیار کیا۔

رپورٹ کے مطابق مارچ کے آخر تک سعودی عرب پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھی گئی۔ رائٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق 25 سے 31 مارچ کے دوران سعودی عرب پر 105 سے زائد حملے ہوئے، جب کہ یکم سے 6 اپریل کے درمیان یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 25 رہ گئی۔

مغربی ذرائع کے مطابق جنگ بندی سے قبل سعودی عرب پر کیے گئے کئی حملے عراق سے کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے براہِ راست حملے محدود کر دیے تھے، جب کہ اس کے اتحادی گروہ سرگرم رہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 7 اور 8 اپریل کو سعودی عرب پر مزید 31 ڈرون اور 16 میزائل داغے گئے، جس کے بعد ریاض نے ایران اور عراق کے خلاف مزید کارروائی پر غور کیا۔

اسی دوران پاکستان نے سعودی عرب کو یقین دہانی کرانے کے لیے جنگی طیارے تعینات کیے اور سفارتی سطح پر تحمل کی اپیل بھی کی۔