سعودی عرب کے شہر ابھا میں مقامی تعمیراتی کمپنی کے زیر انتظام کام کرنے والے 300 سے زائد پاکستانی مزدور گزشتہ کئی ماہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کمپنی نے 10 ماہ قبل تنخواہیں بند کر دیں ہیں اور اقامے بھی ختم ہو چکے ہیں جن کی تجدید اب تک نہیں کی گئی۔ مزدوروں کے مطابق کچھ ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس میں تو کی جاتی ہیں مگر اقامہ نہ ہونے کے باعث وہ رقم نکالنے سے قاصر ہیں۔
ورکرز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اب اتنے وسائل بھی نہیں بچے کہ دو وقت کا کھانا خرید سکیں۔ سعودی حکومت نے عارضی طور پر فی کس 300 ریال فراہم کیے مگر وہ چند دنوں میں ختم ہو گئے۔ دوسری جانب نیپال اور فلپائن کے سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو قانونی مدد اور راشن فراہم کیا جبکہ پاکستانی سفارتخانہ تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کر سکا۔
مزید براں مزدوروں کے مطابق پاکستانی سفارتخانے کا ایک نمائندہ ابھا آیا تھا جو محض تسلی دے کر واپس چلا گیا۔ اس کے برعکس فلپائنی سفارتخانے نے کمپنی کو واضح وارننگ دی ہے کہ اگر واجبات ادا نہ کیے گئے تو وہ قانونی کارروائی کرے گا۔
متاثرہ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ مکمل بے بسی کی حالت میں ہیں۔ نہ تنخواہیں مل رہی ہیں نہ اقامے تجدید ہوئے ہیں اور نہ واپسی کا بندوبست ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان فوری طور پر ان کی واپسی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے اقدامات کرے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ واپس جا سکیں۔
واضع رہے کہ ورکرز نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سیکریٹری خارجہ سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ابھا میں پھنسے پاکستانیوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔






